منگلورو10/اپریل (ایس او نیوز)جنوبی کینرا ضلع انتظامیہ اور محکمہ صحت عامہ نے کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے عوام کو پیش آرہی طبی مشکلات کو دیکھتے ہوئے انہیں راحت پہنچانے کے لئے ضلع میں 13اہم ترین اسپتالوں میں ’فیور کلینکس‘ یعنی بخار کے لئے دواخانے شروع کیے ہیں۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ یہ دواخانے یا کلینکس تمام تعلقہ اسپتالوں کے علاوہ اے جے اسپتال، فادر مولر اسپتال، کے ایم سی عطّاور، ڈیرلکٹہ کے اینا پویا اور کے ایس ہیگڈے اسپتال، کنچوراسپتال، شرینواس اسپتال، سولیا کے کے وی جی اور وینلاک ڈسٹرکٹ اسپتال میں قائم کیے گئے ہیں۔
کوارنٹائن آبزروریشن سینٹرس: جن لوگوں کے اندر بیماری کی کوئی بھی علامت نہیں ہے، لیکن بیمار لوگوں سے کسی بھی قسم کے رابطے میں آنے کا شک ہے، ایسے لوگوں کومنگلورو کے ای ایس آئی اسپتال،انڈیانا اسپتال،ڈیرلکٹہ اینا پویا اسپتال اور سورتکل این آئی ٹی کے ہاسٹل میں قائم کیے گئے کوارنٹائن آبزرویشن سینٹرس میں رکھا گیا ہے۔
مشکوک افراد کے لئے خصوصی مراکز: جن لوگوں پرکورونا وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہے، ان پر پوری طرح نگرانی کے لئے ضلع کے 13 اسپتالوں میں خصوصی وارڈ قائم کیے گئے ہیں۔جس میں اے جے میڈیکل کالج اسپتال، فادر مولر اسپتال، کے ایم سی عطاور، اینا پویا ڈیرلکٹہ اسپتال، کے ایس ہیگڈے اسپتال،کنچور اسپتال، سولیا کے وی جی اسپتال، شرینواس اسپتال، وینلاک اسپتال، سولیا کمیونٹی اسپتال اور پتور، بیلتنگڈی، بنٹوال وغیرہ کے سرکاری اسپتال شامل ہیں۔
پانچ دن سے کوئی پوزیٹیومعاملہ نہیں: ضلع ڈپٹی کمشنر سندھو بی روپیش نے بتایا کہ کورونا پوزیٹیو معاملات اور ایمرجنسی حالت والے مریضوں کے لئے ڈسٹرکٹ وینلاک اسپتال میں علاج کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع انتظامیہ نے وباء پر قابو پانے کے لئے سخت اقدامات کیے ہیں جس کی وجہ سے اس سمت میں کامیابی مل رہی ہے۔ جمعرات کے دن موصول ہونے والی 8 افراد کی رپورٹ بھی نگیٹیو آئی ہے، اس طرح گزشتہ 5دن سے کوئی بھی پوزیٹیو معاملہ دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔جمعرات کے دن 92افراد کی اسکریننگ کی گئی ہے۔اس طرح اب تک اسکریننگ کیے جانے والے افراد 38,813 ہوگئی ہے۔اس دوران جمعرات کے دن 24افراد کے تھوک کے نمونے جانچ کے لئے وینلاک اسپتال لیباریٹر ی میں بھیجے گئے ہیں۔
ڈی سی نے بتایا کہ ’فیور کلینکس‘ جو شروع کیے گئے ہیں اس میں 36 افراد نے اپنا معائنہ کروایا،مگر ان میں سے کسی کے اندر بھی کورونا وائرس کی علامات نظر نہیں آئی ہیں۔